بے گناہ کو سزا:
چھوٹے سے گاؤں "نور پور" میں ایک محنتی اور ایماندار نوجوان "حسن" رہتا تھا۔ وہ روزانہ صبح سورج نکلنے سے پہلے کھیتوں میں کام کرنے جاتا، اور شام کو تھکا ہارا لوٹتا۔ گاؤں والے اس کی دیانت اور خلوص کے قائل تھے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ایک دن گاؤں کے نمبردار "سجاد" کا قیمتی سونے کا ہار غائب ہو گیا۔ نمبردار نے فوراً پورے گاؤں میں شور مچایا، اور بغیر کسی تحقیق کے الزام حسن پر لگا دیا۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ حسن پچھلی رات کھیتوں سے لوٹتے ہوئے نمبردار کے گھر کے پاس سے گزرا تھا۔
حسن نے لاکھ انکار کیا، لیکن نمبردار کے اثر و رسوخ اور غریب حسن کی خاموشی نے سچ کو چھپا دیا۔ پنچایت بیٹھی، اور بغیر ثبوت کے فیصلہ سنایا گیا: "حسن چور ہے، اسے گاؤں سے نکال دیا جائے!"
ماں نے روتے ہوئے بیٹے سے کہا:
"بیٹا، سچ کبھی نہ کبھی سامنے آتا ہے۔ تو سر اٹھا کر جیو، ہم تیرے ساتھ ہیں۔"
حسن گاؤں چھوڑ گیا، دل میں دکھ اور آنکھوں میں آنسو لیے۔ وہ شہر چلا گیا، جہاں اس نے محنت مزدوری سے زندگی شروع کی۔ کئی سال گزر گئے۔ ایک دن نمبردار کی بہو کی طبیعت خراب ہو گئی، شہر کے اسی اسپتال میں لائی گئی جہاں حسن اب نرسنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔
حسن نے نہ صرف اس کی جان بچائی، بلکہ ان کا خاص خیال بھی رکھا۔ جب نمبردار نے اسے پہچانا، تو شرم سے نظریں جھکا لیں۔ چند دن بعد، نمبردار نے خود گاؤں میں سب کے سامنے اقرار کیا کہ ہار اصل میں اس کے بیٹے کے کمرے سے نکلا تھا، جو شراب کے نشے میں اسے بیچنے گیا تھا۔ حسن بے گناہ تھا۔
حسن کو گاؤں واپس بلایا گیا، اور عزت و احترام سے اس کا استقبال کیا گیا۔ لیکن حسن نے صرف اتنا کہا:
"معافی تو مل گئی، لیکن جو وقت، خواب اور بھروسہ ٹوٹا، وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔"